ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آخرکاروزیراعظم مودی بنام وزیراعلیٰ سدارمیا بن گیا کرناٹک اسمبلی انتخابات

آخرکاروزیراعظم مودی بنام وزیراعلیٰ سدارمیا بن گیا کرناٹک اسمبلی انتخابات

Thu, 03 May 2018 00:51:48    S.O. News Service

میسور و،02؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )کرناٹک کے انتخابی تشہیر کے درمیان ریاست کے موجودہ وزیراعلیٰ سدارمیا اور وزیراعظم نریندر مودی میں زبانی جنگ جاری ہے۔ پولیٹیکل کمیونیکیشن میں کنیکٹیو ایکشن کے اثر پر سیاسی ماہر لینس بینیٹ اور الیگجینڈرسرجربرگ نے مل کر ایک اسٹڈی کی ہے۔ اس سے قبل یہ پتہ چلتا ہے کسی مخصوص حالات میں سیاسی ردعمل کا کتنا اور کیسا اثر پڑتا ہے۔ کرناٹک الیکشن میں اپنی انتخابی تشہیر کے پہلے دن وزیراعظم مودی کے زبانی حملے اور اس پر سدارمیا کا فوراً ردعمل اسی کی ایک مثال ہے۔ انتخابی مہم کے ابتدائی مرحلوں میں بی جے پی نے کچھ حدتک کرناٹک الیکشن کو مودی بنام سدارمیا بنا دیا ہے۔

ہائی برڈ میڈیا کے ماحول کو سمجھنے والے سیاسی لیڈر یہ بھی اچھے سے جانتے ہیں کسی موضوع پر کب ردعمل دینا ہے یا کب دیر تک خاموشی اختیار کرنی ہے۔ کب اپنے مقاصد کو پانے کے لئے گرم مدعوں پر بات خاص توجہ دینی ہے؟ اپنے بیانات کو کب دہرانا ہے، کب اکیلے کام کرنا ہے اور کس وقت سب کو ایک ساتھ لینا ہے۔

کرناٹک میں منگل کو وزیراعظم نے چامراج نگر، اڈپی اور بیلگاوی میں تین ریلیاں کی۔ تینوں ریلیوں کی اپنی اپنی خصوصیات تھیں، ریلی میں پہلی بار مودی نے کنڑ مترجم کی مدد لی تاکہ اپنی بات ریاست کے لوگوں تک آسانی سے پہنچ سکے۔ ایسا کرکے مودی ریاست میں سدارمیا کے اثر کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ بنیادی طور پر کرناٹک میں بی جے پی بہاری بنام بہاری کی حکمت عملی سے بچنے کی کوشش کررہی ہے۔ کیونکہ 2015 کے بہار الیکشن کے دوران اس سے بی جے پی کو نقصان ہی ہوا تھا۔

وزیراعظم نریندر مودی کی تقریروں کا دوسرا قابل ذکر پہلو کانگریس پر خاندانی سیاست کو لے کر زبانی حملہ تھا۔ اس ضمن میں بی ایس یدی یورپا کے بیٹے کو ٹکٹ سے انکار کرنا اچھی سوچ ہے۔

اپنی تین ریلیوں میں وزیراعظم مودی جتنی تیزی سے راہل گاندھی پر زبانی حملہ کررہے تھے، اتنی تیزی سے کانگریس پارٹی کا ردعمل بھی آرہا تھا۔ اسی ضمن میں کرناٹک کے وزیراعلی سدارمیا نے ٹوئٹر پرفوراً ردعمل ظاہر کیا۔ اس کام میں کانگریس کی سوشل میڈیا سیل بھی لگی ہوئی ہے۔


Share: